آج کے  سوشل میڈیا  صارفین کی ایک سچی کہانی


Today Social Media



سوشل میڈیا              کی دُکھی آتمائیں۔

السلام و علیکم!

امید کرتا ہوں کہ سب بہن بھائی خیریت سے ہونگے اللہ پاک سب کو اور سب کے گھر والوں کو اور آس پاس کے لوگوں اور رشتے داروں کوہمیشہ سلامت رکھیں۔آمین۔

یہ کہانی بیان کرتے ہوئے مجھے کافی دکھ بھی ہو رہا ہے کیونکہ یہ ایک حقیقت پر مبنی ایک کہانی ہے جس کو میں ایک کہانی کا نام دے رہا ہوں کیونکہ ہر کہانی کے اندر ایک سبق ہوتا ہے اور اس کے اندر بھی زندگی کا ایک بہت بڑا سبق موجود ہے اس لیے میں یہ کہانی لکھنے لگا ہوں۔یہ جو کہانی ہے یہ ہمارے آج کل کے نوجوانوں کے نام ہے ان کی زندگی پر لکھی جا رہی ہے۔آج کے دور میں ہر بندہ انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا سے وابستہ ہے۔اس لیے ہر بندے کو یہ کہانی پڑھنی چاہیے چونکہ میں کوئی بڑا لکھاری نہیں ہوں تو مجھے جہاں تک امید سے یہ کہانی ایک دو بندوں تک بھی مشکل سے پہنچ پائے گی۔تو کہانی کی ابتدا کرتے ہیں۔

کہانی کی ابتداء :

ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک لڑکا تھاجس کا آصف تھا۔ وہ بارھویں جماعت کا طالبعلم تھا۔وہ اپنے بچپن ہی سے سوشل میڈیا پر آ چکا تھا۔حالانکہ اس کے دور میں میں یہ ٹچ والے موبائل بہت کم ہی ہواکرتے تھے لیکن اس نے اپنا جگاڑ بنایا ہوا تھا ۔ اس کے پاس ایک بٹن والا موبائل ہوا کرتا تھا اور اس نے اس موبائل سے ٹچ والا کام لیا ہوا تھا۔وہ اس موبائل کے ذریعہ ڈاون لوڈنگ کرتا تھا اور ساتھ میں اس پر ہر وقت فیس بک چلاتا رہتا تھا۔ چونکہ وہ بچپن سے سوشل میڈیا سے جڑا ہوا تھا تو جب وہ بڑا ہوا تو یہ ٹچ والے موبائل عام ہو گئے تو اس نے بھی ایک ٹچ والا موبائل لے اور اس کے لیے فیس بک چلانا آسان ہو گیا اور اس وقت تک سوشل میڈیا کے حالات بگڑ چکے تھے۔حالات اتنے خراب تھے کہ اس کے فیس بک کھولنے کی دیر ہوتی تھی اور نوٹیفیکیشن کی آواز سے دل دہل جاتا اسکا۔جب وہ نوٹیفیکیشن پڑھنے بیٹھتا تو  لسٹ ختم ہونے سے پہلے اس کے کپڑے آنسوں سے تر ہو جاتے تھے۔اب سب لوگ سوچ رہے ہونگے کہ ایسی کیا نوٹیفیکشن ہوتی تھیں کہ وہ رونے لگ جاتا تھا۔ تو سنیں اس بندے نے جتنے بھی فیس بک گروپس جوائن کیے ہوئے تھے اس کے سب کی سب دکھی آتمائیں رہتیں تھیں۔ اب بات کرلیتے ہیں کہ اس نے ان سب کو دکھی آتما کا نام کیوں دیا؟ تو اس کی وجہ یہ تھی کہ سب لوگوں کو سوشل میڈیا کا نیا نیا شوق تھا اور سب لوگ بھاگ بھاگ کر موبائل لے رہے تھے اور فیس بک جوائن کر رہے تھے ۔بیشک کوئی پڑھا لکھا تھایا ان پڑھ سب کےلیے نئی تھی  فیس بک  تو جیسے ہی اس چیز کا پتا کچھ چالاک لوگوں اور سوشل میڈیا ایکسپرٹس کو لگا انہوں نے تو ان نئے آنے والے بیچارون کا برا حال کر دیا اتنا براکہ اتنا اگر بندا یونیورسٹی میں داخلہ لے تو وہاں پر بھی اتنی کسی کی آج تک اتنی ریگنگ نہیں ہوئی ہو گی۔ تو بھائی صاحب ہوا یوں کہ ان پرانے لوگوں نے لڑکیوں والی پروفائلز بنالیں اور بیچارے نئے والے ان کے جال میں پھنستے گئے اور ان کی ڈیمانڈز پوری کرتے گئے۔ جب ان لوگوں کا ایک سے پیٹ بھر جاتا یہ پھر اس بیچارے کی جیب خالی کر لیتے تو دوسرے شکار کی تلاش میں اور یہ بیچاری دکھی آتمائیں کوئی اپنی لیلہ اور کوئی اپنی سوہنی اور کوئی اپنی سسی کے دکھ میں دکھی پوسٹیں کر کر کہ اس آصف کو بہت زیادہ پریشان کیا تھا اس نے کچھ بندوں سے بات کی کہ کیا مسئلہ ہے ۔ایک نے کہا بھائی میں ثنا سے پیار کرتا تھا مجھے وہ چھوڑ کر چلی    گئی۔اس نے پوچھا بھائی کون ہے وہ ثنا کہاں کی ہے تو اس نے بتایا کہ فیس بک پر ملی تھی کچھ دن بعد مجھے پیار ہو گیا اور بات چیت ہوتی رہی پھر ایک دن میں لوڈ نہیں کروا سکا تو وہ ناراض ہو کر مجھے چھوڑ گئی۔ آصف نے کہا بھائی اتنی بات کیلئے بھلا کوئی چھوڑتا ہے چلو مجھے اس کی پروفائل کا سکرین شارٹ دو میں آپ کیلئے اس سے بات کرتا ہوں تو اس لڑکے نے آصف سکرین شارٹ دیا ۔آصف نے سکرین شارٹ لیکر اس کو ریکویسٹ بھیجی ۔ ا س کو تو نئے شکار کی تلاش تھی اس نے ایک سیکنڈ کے اندر ریکوسٹ قبول کرلی اور میسج بھی کر دیا ۔آصف نے سوچا کہ دال میں ضرور کچھ کالا ہے  اس نے میسج کا جواب دیا اور بات چیت  ہوئی تو تھوڑی دیر بعد ثنا جی نے لوڈ مانگنا شروع کردیا ۔آصف نے اپنی مقصد کی بات شروع کی کہ تم تو اس لڑکے سے اتنا پیار کرتی تھی پھر اس کو کیوں چھوڑا تو تھوڑی دیر اس نے بہت بہانے بنائے لیکن وہ بھی سامنے سے استاد تھا اس نے کہا کہ جو بھی بات ہے سچ سچ بتاؤ مجھے تو جیسے ہی اس کا سچ والا میسج آیا اس کو دیکھ کر آصف تو اتنا نہیں چونکا لیکن اس لڑکے کو بہت زیادہ چونکا دینے والا میسج تھا اس نے کہا کہ بھائی میرا نام ثنااللہ ہے میں  کالج میں پڑتا ہوں میرے پاس پیکج نہیں تھا تو میں نے ایسا کیا اور اس کو استعمال کیابس یہ بولتے ہیں بلاک کر گیا ۔ جیسے ہی آصف اس لڑکے کو میسج کرنے آیا وہ لڑکا تو بیچارہ انتظار میں بیٹھا تھا۔آصف کا پہلا میسج دیکھ کر ہی وہ لڑکا رونے لگا کہ اتنا بڑا دھوکاکیا اس نے صرف لوڈ کیلئے ۔آصف نے کہا کہ بھائی اب یہ میسج فیس بک پر عام کر کہ اگر کوئی لڑکی میسج کر کہ جال بچھائے تو اس میں پھنسنا نہیں ہے۔یا پھر تو اس ثنااللہ کے دکھ میں دکھی آتما بن کہ دکھی شاعری اب فیصلہ تیرے ہاتھ میں ہے۔ وہ لڑ کا ساری کہانی سمجھ گیا او ر اس نے یہ سوشل میڈیا کے عشق سے توبہ کرلی۔آج بھی ان لوگوں کی وجہ سے لڑکیاں بدنام ہیں اور بہت سے لوگ تو آج بھی ویسا ہی کر رہے ہیں سوشل میڈیا پر  یہ جو بھی سوشل میڈیا کی دکھی آتمائیں پھر رہی ہیں نہ ان سب سے لڑکوں سے دھوکے کھائے ہوئے ہیں۔بس یہی حقیقت ہے آج کے سوشل میڈیا کی اور سوشل میڈیا پر موجود دکھی لوگوں کی کونکہ لڑکیاں دھوکہ نہیں دیتی کیونکہ اللہ پاک نے عورت کو بھی نازک بنایا ہے وہ چھوٹی سی بات پر بھی رو پڑتی ہے تو وہ ایسا کیسے کر سکتی ہے۔ اللہ پاک نے عورت کے اندر پیار رکھا ہے  بیشک وہ آپ کے گھر میں جس روپ میں بھی ہے ماں،بہن،بیوی یا بیٹی ہر روپ میں آپ اس کو پیار کاپیکر ہی پاؤ گے۔اسی کے ساتھ کہانی کا اختتام ہوتا ہے۔کہانی مکمل پڑھنے کا شکریہ۔